سوتیلا باپ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (بیوہ یا مطلقہ) کا دوسرا شوہر (جو اپنا حقیقی باپ نہ ہو)۔ "نواب مخدرہ علیا کی وفات کے بعد اُن کے سوتیلے باپ ان کی زبردست جاگیر پر قابض ہو گئے۔"      ( ١٩٨٧ء، گردشِ رنگ چمن، ١٢٥ )

اشتقاق

پراکرت سے ماخوذ اسم صفت 'سوتیلا' کے ساتھ ہندی سے اردو میں دخیل اسم 'باپ' بطور موصوف بڑھانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٨٧ء کو "گردشِ رنگِ چمن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (بیوہ یا مطلقہ) کا دوسرا شوہر (جو اپنا حقیقی باپ نہ ہو)۔ "نواب مخدرہ علیا کی وفات کے بعد اُن کے سوتیلے باپ ان کی زبردست جاگیر پر قابض ہو گئے۔"      ( ١٩٨٧ء، گردشِ رنگ چمن، ١٢٥ )

جنس: مذکر